ایمان کادعویٰ اور کافرانہ روش

 

Claim of Belief & Way of Disbelief

ایمان کادعویٰ اور کافرانہ روش

 

اسی موضوع پر قرآن سے دیگر آیات ملاحظہ کیجیے

 

سورة النور– 24  

وَ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۰۰47 وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۰۰48 وَ اِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ يَاْتُوْۤا اِلَيْهِ مُذْعِنِيْنَؕ۰۰49 اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ يَخَافُوْنَ اَنْ يَّحِيْفَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؒ۰۰۵۰ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰51 وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَخْشَ اللّٰهَ وَ يَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰53

 

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولﷺ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی ،مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے ) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب اُن کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول ﷺکی طرف ، تاکہ رسولﷺ اُن کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسولﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا)روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔  ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسولﷺ کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ﷺ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں،  جو اللہ اور رسول ﷺکی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔

 

سورة الأحزاب 33   

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاؕ۰۰36

 

کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اُسے اپنے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔

 

سورة النساء –  4   

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۰۰65

 

نہیں ، اے محمد ﷺ ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔