اسی مضمون پر قرآن سے دیگر آیات ملاحظہ کیجیے

سورة النمل 

 وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآء اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ {87} وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ {88} مَن جَآء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ {89} وَمَن جَآء بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ {90

اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صور پھونکا جائے گا اور ہول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیںـــــــــ سوائے اُن لوگوں کے جنھیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گاـــــــــ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے۔ آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ  خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو  گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو نیکی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے، اور جو برائی لیے ہوئے آئے گا، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو  ویسا بھرو؟

سورة الزمر

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ {67} وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآء اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُم قِيَامٌ يَّنظُرُونَ {68} وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَآء وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ {69} وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ {70

ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ (اُس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ)قیامت کے روز پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اُس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے۔ پاک اور بالاتر ہے وہ ‎ اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اور ‎ اُس روز صور پھونکا جائے گااور وہ سب مر کر گر جائیں گےجو آسمانوں اورزمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اُٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ زمین اپنے رب کے نور سے چمک ‎ اُٹھے گی، کتابِِاعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر ديے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا، اُن پر کوئی ظلم نہ ہو گااور ہر متنفس کوجو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ 

سورة النبأ

إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا {17} يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا {18} وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا {19} وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا {20

بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے اور آسمان کھول دیا جائے گا حتی کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا، اور پہاڑ چلائے جائیں گےیہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔

سورة الكهف

وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَّمُوجُ فِي بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا {99} وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِّلْكَافِرِينَ عَرْضًا {100} الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَآءٍ عَن ذِكْرِي وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا {101

اور اس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ اور وہ دن ہو گا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، ان کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔

سورة يس

وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ {48} مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ {49} فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ {50} وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ {51} قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ {52} إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ {53

یہ لوگ کہتے ہیں کہ”یہ قیامت کی دھمکی آخر  کب پوری ہو گی؟ بتاؤ   اگر تم سچے ہو۔”دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہےجویکایک انہیں اِس حالت میں دھر لے گاجب یہ (اپنے  دنیوی معاملات میں)جھگڑ رہے ہوں گے، اور اُس وقت یہ وصیت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔پھر ایک صور پھونکا جائے گا  ۔ اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کےلیے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔ گھبرا کر کہیں گے:”ارے یہ کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھا کھڑا کیا؟”ـــــــــ “یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی۔”ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے۔

سورة المؤمنون 

…..وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ {100} فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءلُونَ {101} فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ {102} وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ {103} تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ {104

اب ان سب مرنے والوں کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔ پھر جونہی کہ صور پھونک دیا گیا، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گااور نہ وہ ایک دوسرےکو پوچھیں گے۔اس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گےوہی فلاح پائیں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گےوہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔آگ ان کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور ان کے جبڑے باہر نکل آئیں گے۔

سورة طه

يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا {102} يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا {103} نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا {104} وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا {105} فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا {106} لَا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا {107} يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَت الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا {108} يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا {109} يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا {110

وہ دن جبکہ صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں  (دھشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی، آپس میں چپکے چپکے کہیں گےکہ دنیا میں مشکل ہی سے تم نے  کوئی دس دن گزارے ہوں گے_______ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے(ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ)اس وقت ان ميں سے جو زیادہ  سے زیادہ  محتاط اندازہ لگانے والا ہو گا وہ کہے گا کہ نہیں،تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی_______یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دُھول بنا کر اُڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بَل اور سَلوَٹ نہ دیکھو گے_______ اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ اُس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی، اِلاّ یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے_______وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اوردوسروں کو اس کا پوراعلم نہیں ہے۔

سورة الأنعام

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّوَرِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ {73

وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے۔اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اُسی دن وہ ہو جائے گا۔ اُس کا ارشاد ‏عین حق ہے۔ اور جس روز صور پھونکا جائے گا اُس روز بادشاہی اُسی کی ہو گی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور با خبر ہے۔